سوئیڈن کی معروف کار بنانے والی کمپنی والوو نے روایتی انجن ترک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگلے تین سال میں والوو کی تمام گاڑیاں ہائبرڈ یا الیکٹرک انجن سے چلیں گی۔

والوو نے کہا ہے کہ 2019 تک ان کی تمام گاڑیاں روایتی انجن کے بجائے الیکٹرک یعنی بجلی اور ہائیبرڈ انجن یعنی پیٹرول اور بجلی دونوں کی مدد سے چلنے والے انجن بنائے گا۔

والوو کے چیف ایگزیکٹیو ہکان سیمیولسن نے اس موقع پر کہا کہ اب روایتی انجن بنانے کا وقت نہیں رہا۔

والوو دنیا بھر میں محفوظ گاڑیاں بنانے کے وجہ سے مقبول ہے۔ اسے 2010 میں چینی کار بنانے والی کمپنی گیلی نے خریدا تھا۔

والوو کا یہ اعلان الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا پر دباؤ بڑھائے گا، اتوار کو ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی نئی گاڑی جس کا نام ‘ماڈل 3’ ہے کی ڈلیوری اس ماہ کے آخر میں شروع کر دے گا۔

مسک نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک ان کی کمپنی ہر ماہ اوسطاً دو لاکھ گاڑیاں بنائے گی۔

ٹسلا کی مقبولیت نے روائیتی امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی اجاراداری خطم کی اور اب اس کی مالیت تقریباً ساٹھ ملئین ڈالر ہے۔تصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionٹسلا کی مقبولیت نے روائیتی امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی اجاراداری خطم کی اور اب اس کی مالیت تقریباً ساٹھ ملئین ڈالر ہے۔

ٹیسلا اور خلائی کمپنی ایکس کے مالک ایلون نے ایک نئی ‘بورنگ’ کمپنی قائم کی ہے جو زمین کے نیچے سڑکوں کا جال بچھانے کا کام کرے گی۔

ایلون کا کہنا ہے کہ وہ لاس اینجلس شہر کو کھود کر اس زمین کے اندر اندر سڑکوں کا تھری ڈی نیٹ ورک بچھانا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ٹریفک جام کے مسائل سے بچا جا سکے۔

ٹسلا کی مقبولیت نے روایتی امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی اجاراداری ختم کی اور اب اس کی مالیت تقریباً ساٹھ ارب ڈالر ہے جو کہ معروف امرکی کمپنی فورڈ سے ایک چوتھائی زیادہ ہے۔

Article is xeroxed from BBC Urdu

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *