لندن:ڈرون کے نت نئے استعمالات ہر روز سامنے آتے رہتے ہیں اور اب تازہ خبر یہ ہے کہ ڈرون بہت تیزی سے مینگرووز (تمر) کے جنگلات کی شجرکاری کر سکتے ہیں۔

برطانوی کمپنی بایوکاربن انجینیئرنگ (بی سی ای) کے مطابق ڈرون کے ذریعے 10 گنا تیزی اور نصف لاگت سے مینگرووز کی کاشت کی جا سکتی ہے اور ناسا کے سابق انجینیئر نے اس کمپنی کی بنیاد رکھی ہے۔ کمپنی کے مطابق صرف چھ ڈرون ایک دن میں 100,000 سے زائد پودے لگا سکتے ہیں۔ بی سی ای ایک تنظیم ورلڈ ویو انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (ڈبلیو آئی ایف) کے ساتھ ملک کر میانمار میں مینگرووز کی بڑے پیمانے پر کاشت کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

منصوبے کے تحت مقامی افراد کی تربیت اور شمولیت کے بعد بیج تیار کیے جائیں گے اور 250 ہیکٹر پر مینگرووز کی کاشت کی جائے گی جس میں ڈرون سے بھی مدد لی جائے گی۔ میانمار کا ڈیلٹا طوفان کی زد میں رہتا ہے اور 2008 کے نرگس سائیکلون نے ڈیلٹا میں تباہی پھیلادی تھی جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پہلے مرحلے میں ڈرون 100 میٹر کی بلندی سے علاقے کا تفصیلی تھری ڈی نقشہ بنائیں گے اور اس دوران مٹی کے معیار اور نمی وغیرہ کا جائزہ بھی لیں گے۔ اس طرح درخت لگانے کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکے گی۔ دوسرے مرحلے میں ڈرون کے ذریعے دو میٹر کی بلندی سے بیجوں کی پوٹلی گرائی جائی گی۔ اس طرح صرف 18 منٹ میں ایک ہیکٹر پر بیجوں کی 300 پوٹلیاں (پوڈز) گرائی جا سکیں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماہرین 3000 اقسام کے درختوں کی شجرکاری کا تجربہ کر چکے ہیں اور میانمار میں کامیابی کے بعد اسے دیگر ممالک پر بھی آزمایا جائے گا۔ توقع ہے کہ اگلے چند ماہ میں ڈرون کے ذریعے مینگرووز کی شجرکاری شروع ہو جائے گی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *