اچھے اداروں میں خوب چھان پھٹک کے بعد ملازم رکھے جاتے ہیں۔ پہلے امیدواروں کی سی وی ز کا جائزہ لیا جاتا ہے، پھر انھیں تحریری امتحان کے لیے بلایا جاتا ہے اور اس کے بعد انٹریو کا مرحلہ آتا ہے۔ اکثر اداروں میں امیدواروں کو کئی بار انٹرویو کے لیے بلایا جاتا ہے۔ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران امیدواروں کی قابلیت کا اچھی طرح اندازہ کرنے کے بعد انھیں ملازمت کی پیش کش کرتے ہیں۔

امیدواروں کی بھرتی کا مرحلہ مکمل ہونے میں عام طور پر کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ تاہم اب یہ عرصہ بہت مختصر ہوجائے گا۔ اب امیدواروں کو انٹرویو کے لیے کمپنی کے دفتر بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور نہ ہی ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کو امیدوار کی قابلیت جانچنے میں زیادہ سر کھپانا پڑے گا۔

اس کا سبب HireVue ہے۔ یہ ایک ایسا سوفٹ ویئر یا ایپلی کیشن ہے جو ’ ویڈیو انٹیلی جنس پلیٹ فارم‘ مہیا کرتا ہے۔ سوفٹ ویئر امیدوار کی قابلیت جانچنے میں بھی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے امیدوار کا انتخاب آسان ہوجاتا ہے۔

اس ایپلی کیشن کی مدد سے بہ یک وقت کئی امیدواروں کے انٹرویوز کیے جاسکتے ہیں اور انھیں دفتر بلانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔ آجر اور اجیر دونوں اس سوفٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں آتے ہیں اور بہت کم وقت میں امیدوار کی جانچ پرکھ کا مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے۔

HireVue ایپلی کیشن محض سوفٹ ویئر نہیں ہے بلکہ اس میں مصنوعی ذہانت ( آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا اے آئی ) کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ ایپلی کیشن امیدوار کی قابلیت جانچنے میں مدد کرتی ہے۔ اس سوفٹ ویئر کی وائس اور فیس ریکگنیشن کی صلاحیت آجر کو دوران انٹریو متوقع امیدوار کے الفاظ کے انتخاب، ذخیرۂ الفاظ، لہجے اور چہرے کے تأثرات اور باڈی لینگویج کا دوسرے امیدوار سے موازنہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سوالات کے جوابات کی نوعیت کی مناسبت سے ایپلی کیشن امیدواروں کی درجہ بندی کرتی ہے جس سے آجر کے لیے امیدوار کا انتخاب آسان ہوجاتا ہے۔

یہ منفرد سوفٹ ویئر ڈیزائن کرنے والی کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گولڈمین ساشے، یونی لیور اور ووڈافون سمیت کئی عالمی شہرت یافتہ ادارے اس ایپلی کیشن کا استعمال کررہے ہیں۔ روبوٹ سازی کی صنعت جس تیزی سے ترقی کررہی ہے اس کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں ہیومن ریسورس کا کام  اس جیسی ٹیکنالوجی ملازمین کے انتخاب میں ان کی معاون ثابت ہوگی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *