کراچی:  ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں میں انٹرنیٹ پر مبنی نئے تخلیقی آئیڈیاز متعارف کرانے والے نوجوانوں کو تربیت فراہم کرے گی۔

گوگل لانچ پیڈ ایکسلریٹر کو ان ڈیولپرز کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو حیرت انگیز چیزیں متعارف کراتے ہیں چاہے وہ پورے افریقہ میں ڈیجیٹل کامرس کو ہموار بنانے میں مدد کریں یا ایسے ملٹی میڈیا ٹولز تک رسائی فراہم کریں جنہیں اسپیشل ایجوکیشن کے لیے بنایا گیا ہو یا بزنس آپریشنز کو سادہ بنانے کے لیے آرٹیفشل انٹیلی جنس کا استعمال ہو جو دنیا بھر میں درپیش بڑے چیلنجوں کے لیے حل پیش کرتے ہیں۔

گوگل نے اس سلسلے میں اپنی کوششوں کو دگنا کر دیا ہے اور پروگراموں کی آئندہ کلاس کے لیے پہلی مرتبہ آج کے دن سے مزید ممالک کے لیے درخواستیں کھول دی ہیں۔ ان میں ایشیا سے تعلق رکھنے والے ممالک یعنی پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور میانمار، وسطی اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ممالک میں ایسٹونیا، رومانیہ، یوکرائن، بیلا روس اور روس، لاطینی امریکی ممالک میں کوسٹا ریکا، پاناما، پیرو اور یوروگوئے جب کہ افریقہ کے الجیریا، مصر، گھانا، مراکش، تنزانیہ، تیونس اور یوگنڈا شامل ہیں۔یہ ممالک اب ایک بڑی فہرست کا حصہ بن جائیں گے جن میں  پہلے سے ہی ارجنٹائن، برازیل، چلی، کولمبیا،میکسیکو، چیک ری پبلک، ہنگری، پولینڈ، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، ویتنام، نائیجیریا اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

ایکیوٹی فری پروگرام کے لیے درخواست جمع کرانے کا وقت 2 اکتوبر، 2017 کو پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات 9 بجے ختم ہو جائے گا۔ اس سال کے اختتام پر منتخب کردہ  ڈیولپرز کو سان فرانسکو میں ہونے والی دو ہفتوں کے دورانیے پر مشتمل گوگل ڈیولپرز لانچ پیڈ اسپیس  (Google Developers Launchpad Space) میں دعوت دی جائے گی جس کے تمام اخراجات گوگل ادا کرے گا۔ گوگل ہیڈ کوارٹرز میں فراہم کی جانے والی اس تربیت کے فوائد میں گوگل کی 20سے زائد ٹیمیں، ٹاپ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ماہر منٹورز (mentors) اور سلیکون ویلی سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔

شرکا کو چھ ماہ کے پروگرام کے دوران ایکوئٹی فری سپورٹ، گوگل پروڈکٹس کے لیے کریڈٹ، پی آر سپورٹ اور اپنے وطن واپس جانے کے بعد گوگل کے ساتھ قریبی تعاون بھی فراہم کیا جائے گا۔اس پروگرام کے تحت لانچ پیڈ ایکسلریٹر کے لیے درخواست دینے والے ہر اسٹارٹ اپ پر انتہائی توجہ دی جائے گی۔

گوگل اپنے امیدواروں سے توقع کرتاہے کہ ان کے تمام پروگرام لازماً تیکنیکی طور پر اسٹارٹ اپ ہوں، مقامی مارکیٹ کو ٹارگٹ کرتے ہوں، مارکیٹ کے لیے ان کی موزونیت ثابت شدہ ہو(تخیل کے مرحلے سے آگے) اور مذکورہ بالا فہرست میں شامل ممالک میں سے کسی سے تعلق رکھتے ہوں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *